نئی دہلی،5؍جنوری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)لوک سبھا میں آج صارفین کے مفادات سے منسلک کنزیومر پروٹیکشن بل 2015 کو واپس لے کر اس کی جگہ کنزیومر پروٹیکشن بل 2018 کو رکھا گیا۔صارفین امور کے وزیر رام ولاس پاسوان نے کنزیومر پروٹیکشن بل 2015 کو واپس لینے کی تجویز پیش کی جسے لوک سبھا نے منظوری دے دی۔اس کے بعد انہوں نے کنزیومر پروٹیکشن بل 2018 کو ایوان میں پیش کیا۔مذکورہ بل میں صارفین کے مفادات کے تحفظ کے لئے صارفین تنازعات کے وقت سے تصفیے کی تجویز ہے۔اس سے پہلے کنزیومر پروٹیکشن بل 2015 کو 10 اگست 2015 کو ایوان میں رکھا گیا تھا اور اسے مطالعہ کے لئے خوراک صارفین کیس اور عوامی تقسیم سے متعلق مستقل کمیٹی کو سونپا گیا تھا۔کمیٹی نے 26 اپریل 2016 کو لوک سبھا میں رپورٹ پیش کی تھی۔